اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ ربِّ الْعِزَّت نے مختلف عُنوانات پر کم و بیش ایک ہزار کتابیں لِکھی ہیں۔ ہرتصنیف میں آپ کی علمی وجاہت،فقہی مہارت اور تحقیقی بصیرت کے جلوے دکھائی دیتے ہیں، بالخصوص فتاوٰی رضویہ توغواصِ بحرِفقہ کے لئے آکسیجن کا کام دیتا ہے ۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قرآنِ مجید کا ترجمہ کیاجو اردو کے موجودہ تراجم میں سب پر فائق ہے۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ترجَمہ کا نام ’’کنزالایمان‘‘ ہے ۔تصانیف و شروح کے علاوہ ان کے بہت سے مقالات ، مکتوبات ، منظومات ، تعلیقات ، توضیحات ، ملفوظات ، تنقیدات ، مکالمات اور مواعظ و غیرہ بھی ہیں جن کی تعدا دکا صحیح اندازہ نہیں۔آپ کی چند کتب کے نام ملاحظہ ہوں: (۱):تمہید الایمان مع حاشیہ ایمان کی پہچان (۲):ولایت کا آسان راستہ : تصورِ شیخ وغیرہ۔

علم کا چشمہ ہوا ہے موج زن تحریر میں

جب قلم تو نے اٹھایا اے امام احمدرضا

(وسائلِ بخشش ص۵۳۶)

نوٹ:آپ کی تصانیف کی تفصیلی موضوعاتی فہرست’’ حیاتِ اعلیٰ حضرت‘‘ مطبوعہ’’ مکتبہ نبویہ‘‘ جلد دوم میں موجود ہے۔ (محد ث ِ بریلوی از ڈاکٹر مسعود احمد صاحب مطبوعہ ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی ص97-99)


امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنے رسالے سیِّدی قطبِ مدینہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ میں تَحریر فرماتے ہیں: ’’اَلْحَمْدُللہ عَزَّوَجَلَّ!میں بچپن ہی سے امامِ اہلسنت، عظیم البرکت،پروانۂ شمعِ رسالت، مجدد دین و ملت مولانا شا ہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے متعارف ہوچکا تھا ۔پھر جوں جوں شعور آتا گیا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی محبت دل میں گھر کرتی چلی گئی ۔میں بلا خوفِ تردید ،کہتا ہوں کہ ربُّ الْعُلٰی کی پہچان، میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذریعے ہوئی۔ تو مجھے میٹھے میٹھے مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پہچان امام اَحمد رضا عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے سبب نصیب ہوئی ۔

اعلیٰ حضرت رَضِيَ اللہُ عَنْہ سے ہمیں تو پیار ہے

اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَل اپنا بیڑا پارہے

(تعارفِ امیراہلسنت، ص62)



آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےتیرھویں صدی میں ستائیس سال، دو مہینے اور بیس دن پائے اور چودھویں صدی میں چالیس سال ایک مہینہ اور پچیس دن پائے۔جس میں آپ کے علوم و فنون، درس و تدریس، تالیف و تصنیف، افتاء اور وعظ و تقریر کا شہرہ ہندوستان سے عرب و عجم تک پہنچا، حمایت دین، نکایت مفسدین، احقاق حق و ازہاق باطل، اعانت سنّت اور اماتت بدعت کے فرائض منصبی کو کچھ ایسی خوبی اور کمال کے ساتھ آپ نے سرانجام دئیے جو آپ کے جلیل القدرمجدد ہونے پر شاہد عدل ہیں ۔ یقیناًآپ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم کے علوم کے صحیح جانشیں تھے جس سے ایک عالم فیض یاب ہوا۔آپ نے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں اور دور جدید کی گمراہیوں کے خلاف مجاہدانہ کردار ادا کیا۔آ پ نے کمالِ مہارت،برجستگی کلام اورقوتِ تحریرکاایک عظیم شاہ کارکلام پیش فرمایاہے۔تفسیر ی مہارت کا ایک شاہکار آپ کا ترجمہ قرآن ’’کنزالایمان ‘‘ بھی ہے جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے ، اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن(کی روح)ہے۔آپ بر صغیر کی وہ علمی شخصیت ہیں جن پر متعدد اسکالرز پی ایچ ڈی کر چکے ہیں اور کئی اسکالرس پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔

train ruki rahi

میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ عشقِ مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاسرتاپا نُمُونہ تھے، آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کا نعتیہ دیوان ’’حدائقِ بخشش شریف‘‘ اِس اَمر کا شاہد ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی نَوکِ قلم بلکہ گہرائیِ قَلب سے نِکلا ہوا ہر مِصرَعَ مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی بے پایاں عقیدت ومحبت کی شہادت دیتا ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے کبھی کسی دُنیوی تاجدار کی خوشامد کے لیے قصیدہ نہیں لکھا،اِس لیے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے حُضورِ تاجدارِ رِ سالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت و غُلامی کو دل و جان سے قبول کرلیا تھا۔اور اس میں مرتبۂ کمال کو پہنچے ہوئے تھے، اس کا اظہار آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے ایک شِعر میں اِس طرح فرمایا : ؎

اِنہیں جانا اِنہیں مانا نہ رکھا غیر سے کام

للہ الحمد میں دُنیا سے مسلمان گیا

(تذکرہ امام احمد رضا، صفحہ 10)

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مشہورِزمانہ “سلام”

مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام

شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام!

جوکہ پورے عالمِ اسلام میں اوربالخصوص برصغیر پاک وہندکے گوشہ گوشہ میں مکین ثناء خوان کی زبان پر جاری ہے۔

اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی وفات سے چارماہ بائیس دن پہلے خود اپنے وصال کی خبر دے کر ایک آیتِ قرآنی سے سالِ وفات کا استخراج فرمایا تھا۔وہ آیتِ مبارکہ یہ ہے:

وَ يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِاٰنِيَةٍ مِّنْ فِضَّةٍ وَّ اَكْوَابٍ

ترجمہ کنزالایمان:اور ان پر چاندی کے برتنوں اور کُوزوں کا دَور ہوگا۔(پ ۲۹، الدھر:۱۵) (سوانح امام احمد رضا ، ص ۳۸۴)

۲۵صفَر الْمُظَفَّر ۱۳۴۰ھ مطابق ۱۹۲۱ء کوجُمُعَۃُ الْمُبَارَک کے دن ہندوستان کے وقت کے مطابق2 بج کر38 منٹ پر،عین اذان کے وقت ادھر مؤذن نے حَیَّ عَلَی الفَلَاح کہا اور ادھر امامِ اہلسنت ولی نعمت ، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، پروانہ شمعِ رسالت، مجدد دین وملت، حامیِ سنت، ماحیِ بدعت، عالمِ شریعت، پیرِطریقت، باعثِ خیروبرکت، حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافظ القاری شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے داعئ اجل کو لبیک کہا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مزارِپُراَنوار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہِ خاص و عام بنا ہوا ہے۔(تذکرہ امام احمد رضا)