Search

Search text in whole Web and WAP site.

Text

Subscribe for Newsletter

  • Email Address  

الحمدللہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین
اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

درودِ پاک کی فضیلت

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
    شیخِ طریقت، امیرِاہل ِسنت بانئ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے ''ضِیائے دُرُود و سلام''میں سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب و سینہ،فیضِ گنجینہ ،صاحبِ معطر پسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم کا فرمانِ تقرب نشان نقل فرماتے ہیں : '' بروزِ قیامت لوگوں میں سے میرے قریب تر وہ ہوگا جس نے دنیامیں مجھ پر زیادہ دُرُودِ پاک پڑھے ہوں گے ۔'' ( ترمذی،کتاب الوتر، ج ٢، ص٢٧ )

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب          صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
افضل ترین شے

    سرکارِ دوعالم ،نورِ مجسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے محوِ گفتگو تھے کہ آپ پر وحی آئی کہ اس صحابی کی زندگی کی ایک ساعت (یعنی گھنٹہ بھر زندگی) باقی رہ گئی ہے ۔ یہ وقت عصر کا تھا ۔ رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے جب یہ بات اس صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتائی تو انہوں نے مضطرب ہوکر التجاء کی : ''یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائےے جو اس وقت میرے لئے سب سے بہتر ہو۔'' تو آپ نے فرمایا :''علمِ دین سیکھنے میں مشغول ہوجاؤ ۔'' چنانچہ وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ علم سیکھنے میں مشغول ہوگئے اور مغرب سے پہلے ہی ان کا انتقال ہوگیا ۔ راوی فرماتے ہیں کہ اگر علم سے افضل کوئی شے ہوتی تو رسولِ مقبول صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم اسی کا حکم ارشاد فرماتے ۔(تفسیر کبیر ، ج١،ص٤١٠)

اللّٰہ ورسول (عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ والہٖ وسلم) کا کرم

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
     علمِ دین سیکھنے والے سعادت مندوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلمکا کیسا کرم ہوتا ہے ، اس کا اندازہ اِن روایات سے لگائیے :
    (1) رسول کریم رؤف رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ جس شخص کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسےدین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور خدا دیتا ہے اور میں تقسیم کرتا ہوں۔ (بخاری، کتاب العلم، ، الحدیث ٧١، ج١، ص٤٢)
    (2) حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ سُرورِ قلب وسینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم اپنی مسجد میں دومجلسوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :'' یہ دونوں بھلائی پر ہیںمگر ایک مجلس دوسری سے بہتر ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دعا کررہے ہیں ،اس کی طرف راغب ہیں ، اگر چاہے انہیں دے چاہے نہ دے ۔ اور وہ لوگ خود بھی علم سیکھ رہے ہیں اور نہ جاننے والوں کو سکھا بھی رہے ہیں ،یہی افضل ہیں ،میں معلم ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ '' پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم انہیں میں تشریف فرما ہوئے ۔(مشکوۃ المصابیح ، کتاب العلم ، الحدیث ٦٠،ج١،ص١١٧)
    (3)حضرتِ صفوان بن عسال المرادی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم مسجد میں اپنے (دھاری دار)سرخ کمبل سے ٹیک لگائے تشریف فرماتھے، میںنے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم !میں علم حاصل کرنے آیا ہوں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے فرمایا:'' طالبُ العلم کو خوش آمدید، بیشک طالبُ العلم کو ملائکہ اپنے پروں سے ڈھا نپ لیتے ہیں پھران میں بعض ملائکہ دیگر بعض ملائکہ پر سواری کرتے ہوئے طلب علم کی وجہ سے طالبُ العلم کی محبت میں آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہےں۔'' (المعجم الکبیر ،الحدیث٧٢٣ ، ج ٨ ص ٥٤)
    (4) حضرتِ سیدنا واثلہ بن اسقعرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرورِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے فرمایا : ''جو علم حاصل کرے اور اسے پابھی لے تو اس کے لئے دوہرا ثواب ہے اور جو نہ پا سکے اس کے لئے ایک ثواب ہے ۔
(مشکوۃ المصابیح ، کتاب العلم، الحدیث ٥٦، ج١، ص١١٦)
    (5) حضرتِ حسن بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی سے مرسلاً روایت ہے کہ نبی اکرم ، رسول مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم نے فرمایا : ''جسے اس حالت میں موت آئے کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے علم سیکھ رہا ہو تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان ایک درجہ ہو گا (یعنی وہ ان کا قُرب پائے گا ۔)(مشکوۃ المصابیح ، کتاب العلم ، الحدیث ٥٢، ج١، ص١١٥)

اَصحابِ صُفّہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُم)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!
         صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کامعمول تھا کہ ضروریات ِ زندگی پوری کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ معلّمِ اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوکر علمِ دین بھی حاصل کیا کرتے تھے۔مگر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 60سے 70 صحابہ کرام ایسے تھے جو سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم کے درِاقدس پر پڑے رہتے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم کی صحبت میں رہ کر علمِ دین سیکھا کرتے اور راہِ خدا عزوجل میں سفر کرکے کافروں کو دعوتِ اسلام پیش کرتے جبکہ مسلمانوں کوشرعی اَحکامات سکھایا کرتے تھے ۔ ان کی رہائش ایک چھنے ہوئے چبوترے میں تھی جسے عربی میں صُفَّہ کہتے ہیں لہذا !ان نفوسِ قدسیہ کو اصحاب ِ صُفّہ کہا جاتا تھا ۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان خوش نصیبوں میں شامل تھے۔رحمت ِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و اٰلہ وسلم ان کے اخراجات کے کفیل تھے ۔ (ماخوذ از مرأۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح ،ج ٧ ، ص ٣٥)
    الحمد للہ عزوجل ! اصحاب ِ صُفّہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد بھی کثیر مسلمان ان کے نقش قدم پر چلتے رہے اور اپنے علاقے اور گھر بار وغیرہ کو چھوڑ کر ایک جگہ کسی مدرسہ یا جامعہ میں جمع ہوکر باقاعدہ علمِ دین سیکھتے رہے اور نیکی کی دعوت عام کرتے رہے۔

YES
Copyrights 2014 Dawateislami.net