اہم نوٹ



دُنیا بھر میں فضلِ ربّ(عَزَّ وَجَلَّ) سے دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کی دُھوم دھام ہے۔دعوتِ اسلامی اپنا پیغام دُنیا کے کم و بیش 200ممالک میں پہنچانے کے ساتھ ساتھ 103شعبہ جات میں دین ِ متین کی خدمت سرانجام دے رہی ہے،ان میں سے چندشعبہ جات میں ہونے والے مدنی کاموں کی مختصرجھلکیاں ملاحظہ فرمائیے:


”محبت بھرا گھرانا“یہ سنتے ہی ایک ایسے گھر کا منظر ذہن کے پردے پر ابھرتا ہے جس کے مکین(رہنے والے) ایک دوسرے کی عزت کا پاس اور ادب و احترام کی فضا قائم رکھنے والےہوں ۔درحقیقت ایک دوسرے کی عزت واحترام کرناایساوصف ہے جس کی موجودگی میں کسی گھر کی بنیادیں عرصہ دراز تک مضبوط رہتی ہیں۔ جبکہ عزت کی پامالی ان بنیادوں کو ہلاکر رکھ دیتی ہے اورباہمی رنجشوں کا سبب بنتی ہے لہٰذا ’’عزت دیجئے عزت لیجئے ‘‘کے زریں اصول پر کاربند رہنا چاہیے۔


ایک قافلہ جیلان سے بغداد کی طرف رواں دواں تھا۔ جب یہ قافلہ ہمدان شہر سے آگے بڑھا اور کوہستانی سلسلہ میں داخل ہوا تو ڈاکوؤں کے ایک گروہ نے اس قافلہ پر حملہ کرکے اہل ِقافلہ کے مال واسباب کو لُوٹنا شروع کر دیا ۔قافلے کے ہر فرد پر خوف و ہراس چھایا ہوا تھا، کسی میں ہمت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر ان خونخوار لٹیروں کا مقابلہ کرسکے، اس قافلے میں لگ بھگ 18سالہ ایک خوبرو نوجوان بھی تھا، جس کے چہرے پر نہ خوف تھا نہ پریشانی کی کوئی علامت، اطمینان و سکون کا نور اس کے چہرے سےچھلک رہا تھا۔



آگ اللہ تعالٰیکی نعمت ہےکہ ہم کھانا پکانے ،پانی گرم کرنے،دودھ ابالنے اور دیگر ضروریات زندگی پوری کرنے میں اس سے مدد لیتے ہیں،لیکن یہی آگ ہماری بے احتیاطی کی وجہ سے زحمت بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ بلاضرورت آگ کے قریب نہ جائیں،جس جگہ آگ لگ چکی ہووہاں سے دوررہنا چاہئے۔


اللہ تَعَالٰی نے جن خوش نصیبوں پر فہم و فراست کے دَروازے کھولے اور جن کی زبان پرعلم و حکمت کے چشمے جاری کئے ان خوش بختوں میں ایک نام عالم بے مثال، حضرت ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہے،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اصل نام عُوَیْمَر اور کنیت ابو درداء ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ زردی مائل خضاب استعمال فرماتے ، سر مبارک پرٹوپی پہنتے اور اس پر عمامہ شریف کا تاج سجاتے تھے جبکہ شملہ مبارکہ دونوں کندھوں کے درمیان پشت پررکھتے تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ

ناکامی(Failure) ایسا لفظ ہے جس کا بولنایا سننا بھی اچھا نہیں لگتا،ا گر ہمارے سامنے کوئی شخص اپنے کسی منصوبے یاہدف کا ذکر کرے اور ہم اس سے کہہ دیں کہ تم اس میں ناکام ہوجاؤ گے تو اس کا منہ اُتر جائے گا ۔فی زمانہ ہر دوسرا شخص بالخصوص نوجوان اپنی ناکامیوں کا رونا روتا دکھائی دیتا ہے کہ جناب میں نے اتنی کوشش کی فلاں امتحان پاس کرنے کی مگر ناکام رہا ، میرے پاس فلاں فلاں ڈگری ہے مگر نوکری نہیں ملتی ، دن رات محنت کرتا ہوں مگر اخراجات پورے نہیں ہوتے، اچھا عہدہ(Good Post)

شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے مکتوبات سے انتخاب۔

سگِ مدىنہ ابوبِلال محمد الىاس عطّار قادرى رضوی عُفِىَ عَنْہٗ کى جانب سے حاجىانى ۔۔۔عطارىہ کى خدمت مىں مکۂ مکرمہ کى مہکى مہکى فضاؤں کو چومتا ہوا، کعبۂ مشرفہ کے گرد گھومتا ہوا،تلقىنِ صبر سے لبرىز مغموم سلام۔

ایک مرتبہ اللہ تعالٰی کے نبی حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام بہت بڑا لشکر لے کرایک وادی سے گزرے جہاں بہت زیادہ چیونٹیاں تھیں،لشکر کو دیکھ چیونٹیوں کی ملکہ نے تمام چیونٹیوں سے کہا: اے چیونٹیو!تم سب اپنے گھروں میں چلی جاؤ کہیں حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کا لشکر تمہیں بے خبری میں کچل نہ دے۔ ’’سمجھ دار چیونٹی‘‘ کی یہ بات حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَامنے تین (3)میل دور سے سن لی اور مسکرا کر اپنے لشکر کو روک دیا تاکہ چیونٹیاں اپنے گھروں میں داخل


ماہنامہ ربیع الاخر کی ویڈیو لائبریری